Monday, January 10, 2011

ہزار خوف ہو ليکن زباں ہو دل کي رفيق



ہزار خوف ہو ليکن زباں ہو دل کي رفيق
يہي رہا ہے ازل سے قلندروں کا طريق
...ہجوم کيوں ہے زيادہ شراب خانے ميں
فقط يہ بات کہ پير مغاں ہے مرد خليق
علاج ضعف يقيں ان سے ہو نہيں سکتا
غريب اگرچہ ہيں رازي کے نکتہ ہائے دقيق
مريد سادہ تو رو رو کے ہو گيا تائب
خدا کرے کہ ملے شيخ کو بھي يہ توفيق
اسي طلسم کہن ميں اسير ہے آدم
بغل ميں اس کي ہيں اب تک بتان عہد عتيق
مرے ليے تو ہے اقرار باللساں بھي بہت
ہزار شکر کہ ملا ہيں صاحب تصديق
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھي مسلماني
نہ ہو تو مرد مسلماں بھي کافر و زنديق

See more

0 comments:

Post a Comment